ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تشدد کی آگ دہلی میں بھی بھڑکانے کی کوشش، مسجد کے باہر اشتعال انگیز نعرے بازی

تشدد کی آگ دہلی میں بھی بھڑکانے کی کوشش، مسجد کے باہر اشتعال انگیز نعرے بازی

Mon, 02 Apr 2018 11:40:03    S.O. News Service

نئی دہلی، یکم اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) شرپسندوں نے دہلی کے منڈاولی علاقہ میں ہاتھوں میں ننگی تلواریں لے کر ہنومان جینتی کے ایک دن بعد ہنومان کا جلوس نکالااور یہاں واقع محمدی مسجد پر اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ یہ گروہ تقریباً 10-15 منٹ تک کھلے عام تلواریں اور دیگر ہتھیار لئے ہوئے تھا۔ نعریبازی کرتے ہوئے اور دھمکیاں دیتے ہوئے یہ گروہ آگے چلا گیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جلوس کے ساتھ چند پولس اہلکار بھی چل رہے تھے یہاں تک کہ پولس کی ایک گاڑی بھی جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی (حالانکہ اس میں ڈرائیور کے علاوہ کوئی دیگر اہلکلار موجود نہیں تھا) ۔ لیکن پولس اہلکاروں نے شرپسندوں کی نعرے بازی کو نہیں رکوایا۔ یہ گروہ مسجد کے گیٹ پر پٹاخے چھوڑتے رہے، دھمکیاں دیتے رہے اور ہنگامہ آرائی کرتے رہے لیکن پولس تماشائی کی شکل میں دیکھتی رہی۔ مسجد کی دیواروں پر پٹاخوں سے نکلا ہوا رنگ لگا دیکھا جا سکتا ہے ۔

اس واقعہ کی وجہ سے علاقہ کے مسلمانوں میں زبردشت دہشت پھیل گئی۔ آنا فانا میں پولس کو اطلاع دی گئی اور پولس موقع پر پہنچی۔منڈاولی تھانہ میں جب یہ دریافت کرنے کے لئے کال کی گئی کہ جلوس نکالنے کی اجازت تھانہ سے لی گئی ہے یا نہیں تو پہلے تو وہاں سے کہا گیا کہ کنٹرول روم کال کر کے پتہ کریں۔ کنٹرول روم میں کال کی گئی تو کہا گیا وہی منڈاولی تھانہ سے پتہ کریں۔ اس کے بعد دوبارہ جب منڈاولی تھانہ میں کال کی گئی تو کہا گیا کہ ایس ایچ او صاحب موقع پر ہیں وہ ہی اس کے بارے میں کچھ بتا پائیں گے ہمیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ سب کچھ ہو جانے کے تھوڑی دیر بعد جلوس میں جانے والے شرپسند تلواریں لے کر پھر سے واپس آ ئے۔ انہوں نے پھر سے نعرے بازی کی کوشش کی ۔ پولس موقع پر موجود تھی اور ان سے تلوارایں بھی ضبط کر لی اور دو افراد کو پولس گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے ۔ نعرے بازی کی ملزمین کو کو دیکھ کر مسلم طبقہ مشتعل ہو گیا اور پولس کی گاڑی کو مسلمانوں نے روکنے کی کوشش کی ۔ دونوں ملزمین کو پولس نے گاڑی میں تو بیٹھایا لیکن جب تھانہ میں کال کر کے پوچھا گیا کہ ان کو حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں تو اس کی معلومات تھانہ سے نہیں دی گئی اور کہا گیا کہ جو پولس اہلکار موقع پر گئے تھے وہ ابھی واپس نہیں پہنچے ہیں۔

منڈاولی علاقہ کے حالات اس وقت بہت سنگین ہو چلے ہیں۔ مسلم طبقہ میں اس بات کو لے کر بے چینی ہے کہ مسجد کے سامنے قابل اعتراض نعرے بازی کی گئی اور جان سے مانے اور سر کاٹنے کی دھمیاں دی گئیں۔واقعہ کے وقت موقع پر موجود فیروز خان کا کہنا ہے کہ جس طرح کی نعرے بازی وہ شرپسند کر رہے تھے اگر ایک بھی مسلم نوجوان انہیں ٹوک بھی دیتا تو فساد پھیلنے کا پورا اندیشا تھا۔ ساجد سیفی کا کہنا ہے جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہی گاڑی کو ڈرائیو کر رہے پولس اہلکار سے جب میں نے پوچھا کہ آپ انہیں روک کیوں نہیں رہے تو اس نے کہا کہ جلوس میں اتنا تو ہوتا ہی ہے ۔ یہ معمولی بات ہے۔ محمد عمران کا کہنا ہے کہ بنگال، بہار اور راجستھا ن میں جس طرح فساد پھیلایا گیا ہے یہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے پاس ووٹ حاصل کرنے کایہی ایک واحد طریقہ ہے۔ سارے ملک کے بعد اب یہ راجدھانی دہلی کی فضا بھی خراب کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔


Share: